July 1, 2019. world News

افغان صوبہ قندہار میں ضلعی ہیڈکوارٹر پرطالبان کا حملہ،شدید لڑائی جاری، درجنوں ہلاک و زخمی

 افغانستان کے جنوبی صوبہ قندہار میں ضلعی ہیڈکوارٹر پرطالبان نے بہت بڑاحملہ کرکے بارود سے بھری چار گاڑیوں کا خودکش بم دھماکہ کرادیا جس کے نتیجے میں افغان الیکشن کمیشن کے8 اہلکاروں اور پولیس افسروں سمیت 50 سے زائد سرکاری اہلکارہلاک ہونے کاخدشہ ظاہرکیا جارہا ہے جبکہ طالبان نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرکے 57 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم افغان وزارت داخلہ نے 8 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ افغان و غیرملکی میڈیا اور سرحد پار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی صوبہ قندہار

ے ضلع معروف میں اتوارکی علی الصبح 2 بجے ضلعی ہیڈکوارٹر کی عمارت میں طالبان نے بارود سے بھری چار گاڑیاں داخل کرکے زوردارخودکش بم دھماکے کرائے جس کے نتیجے میں طالبان نے 57 سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم افغان وزارت داخلہ نے ابتدائی اطلاعات میں افغان الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ظاہرکیا ہے اور کہا ہے کہ دھماکے کے وقت ضلعی ہیڈکوارٹر کی عمارت میں 70 کے قریب اہلکار موجود تھے۔بعض اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے تاہم نیویارک ٹائمز نے کابل اور قندہار میں افغان حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں 34 سے50 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں زیادہ تر پولیس افسرشامل ہیں۔صوبائی گورنرکے ترجمان عزیزاحمد عزیزی کے مطابق حملہ بہت بڑا تھا اورشدید نوعیت کادھماکہ تھا جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم اْنہوں نے فوری طورپرہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی اور کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔افغان وزارت داخلہ اور قندہار کے پولیس سربراہ جنرل تادین خان اچکزئی کے مطابق بارود سے بھری چارگاڑیوں کو عمارت کے اندر داخل کرکے دھماکہ کرایا گیا جس میں الیکشن کمیشن کے آٹھ اہلکاروں سمیت بڑی تعدادمیں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن مزید تفصیل نہیں بتائی۔بتایاجاتا ہے کہ افغان الیکشن کمیشن کے آٹھ اہلکار قندہارمیں ووٹروں کی رجسٹریشن کے لئے آئے تھے جنہوں نے اپنا کام مکمل کرکے اتوار کے روز واپس جاناتھا لیکن اب کبھی نہ جاسکیں گے۔اطلاعات کے مطابق صوبہ قندہار کے دوراْفتادہ ضلع معروف کے پیشتر علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پرانی عمارت پر طالبان کے قبضہ کے بعد شہر سے 25 کلومیٹردور نیا ضلعی ہیڈکوارٹر قائم کیا تھا۔ادھر افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ایک بیان میں واقعہ پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔

Like Our Facebook Page

Latest News