January 11, 2019.Health..

تمباکو کی قیمتوں میں 45سے57فیصدتک ایکسائز ٹیکس شیئر کا اضافہ کیا جائے :پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن

 پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے تجویزدی ہے کہ تمباکو کی قیمتوں میں 45سے57فیصدتک ایکسائز ٹیکس شیئر کا اضافہ کیا جائے،نئی ریفارمز سے تین سال بعد بڑوں کی شرح تمباکو نوشی میں بھی42فیصد تک کمی آئے گی، تمباکو نوشی کی وجہ سے شرح اموات میں بھی کمی آئیگی تین سالوں میں ٹیکس ریفارمز کے ذریعے قومی ریونیو میں 205.9ارب کااضافہ ہو گا،تمباکو ٹیکس اصلاحات سے ٹیکس ریٹرن میں اضافہ اور صحت کے شعبے میں بہتری آئے گی۔

اسلام آباد میں پروٹیکشن آف چائلڈ ،ہیومن ڈویلپمنٹ فانڈیشن اورپاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تمباکو ٹیکس ریفارمز سے متعلق میڈیا کانفرنس کا انعقادکیاگیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے رہنماملک عمران احمد نے کہا کہ تمباکو ٹیکس ریفارمز سے متعلق مکمل طویل المدت اور شارٹ ٹرمز تجاویز پیش کیں ہیں،ماہرین کے مطابق تین سالوں میں ٹیکس ریفارمز کے ذریعے قومی ریونیو میں 205.9ارب کااضافہ ہو گا،جو سالانہ ریونیو کے 51 فیصد کے برابر ہوں گے۔ماہرین نے مزید کہا کہ قیمتوں میں 45.9%سے57% تک ایکسائز ٹیکس شیئر کا اضافہ کیا جائے،عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن نے 70فیصد تک کی سفارشات دے رکھی ہے۔شرکا نے تمباکو ٹیکس ریفارمز سے متعلق تجاویز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے ریفارمز کو تسلیم کیا تو پاکستان کی تمباکو ٹیکس سسٹم پالیسی آسان ہو گی اور تمباکو پر حصول ٹیکس سے متعلق حکومتی عمل درآمد کے اخراجات کی بچت ہو گی۔شرکا نے مزید کہا کہ ریفارمز تجاویز سے تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی آئے گی اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے گا اور ریونیو میں اضافے سے صحت کیشعبے میں بہتری اور تمباکو کنٹرول پروگرا موثر ہو گا،مقررین ذاہد شفیق نے کہا کہ مہنگائی اور استطاعت کار میں کمی سے تمباکو نوشی میں کمی آئے گی،تمباکو کے تمام اشیا کے ٹیکسز میں ہم آہنگی پیدا کی جائے اور تمباکو کے تجارت سے متعلق قانون کا نفاذ یقینی بنائی جائے،خاص طور پرلائیسنس، ٹریکنگ،ٹریسنگ اور ریکارڈ کے نظام کو سزاں اور ٹیکس سے استثنی کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے ذریعے مستحکم کیا جائے،مقررین نے حکومت سے تجاویز پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر دیاkk

Like Our Facebook Page

Latest News