January 20, 2019,.ڈیلی بائیٹس

شرم سے چہرے لال کردینے والا انکشاف : اہم اسلامی ملک میں عورتوں کی خاص خواہشات کو بڑھانے والی دوا متعارف کروا دی گئی ، نام ایسا کہ آپ ہکا بکا رہ جائیں گے

  مصر میں حکام نے عورتوں کی جنسی ادویات کے حوالے سے دنگ کر ڈالنے والے اقدام کی اجازت دے دی ہے ، بتایا گیا ہے کہ اس ملک کی خواتین اب جنسی خواہشات کو بڑھانے والی ادویات استعمال کر سکیں گی ۔ اس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہمصر کی خواتین اب عورتوں کے لیے خاص طور پر بنائی گئی ویاگرا کا استعمال کر سکتی ہیں ۔ یہ دوا استعمال کرنے والی ایک خاتون لیلیٰ کا کہنا ہے کہ ’مجھ پر غنودگی چھا گئی، چکر آنے لگے اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا‘ اس دوائی کو کیمائی طور پر ’فلبانسیرن‘ کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پہلی بار اس میڈیسن کے استعمال کی اجازت امریکا میں تین سال پہلے دی گئی تھی اور اب اس دوائی کو مصر کی ایک مقامی دوا ساز کمپنی تیار کر رہی ہے۔ لیلی نے اپنی اصل شناخت چھپا کر مگر کھل کر خواتین کے جنسی مسائل اور جنسی خواہشات پر بات کی جس کو آج بھی مصر میں دقیانوسی اور معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے شادی کے دس سال بعد تجسس کے باعث اس دوائی کے استعمال کا فیصلہ کیا. ان کا کہنا تھا کہ دوا ساز نے انھیں یہ دوائی چند ہفتوں کے لیے روزانہ رات کو لینے کا بتایا اور کہا کہ اس کے کوئی نقصانات نہیں ہیں۔ لیلی کہتی ہیں میں نے اس کو صرف ایک بار استعمال کیا اور دوبارہ کبھی نہیں کروں گی۔`فلبانسیرن دوائی بنانی والی مقامی کمپنی کا کہنا ہے کہ

مصر میں دس میں سے تین خواتین کو جنسی خواہشات میں کمی کا سامنا ہے لیکن یہ اعداد و شمارعام اندازے کے مطابق ہیں، اس طرح کے درست اعداد و شمار کسی بھی ملک سے حاصل ہونا کافی مشکل ہیں۔دوا ساز کمپنی کے نمائندے اشرف المراغی کا کہنا ہے کہ یہ دوا انقلابی ہے اور مصر میں اس کی بہت ضرورت ہے۔مصری خواتین اس دوا کو خریدتے ہوئے شرماتی ہیں شمالی قاہرہ میں ایک فارمیسی چلانے والے مراد صادق کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خریداروں کو ہمیشہ اس کے نقصانات کے متعلق بتاتے ہیں مگر وہ پھر بھی اس کو خریدنے کے لیے اصرار کرتے ہیں۔تقریباً دس افراد روزانہ اس دوائی کو خریدنے آتے ہیں جن میں زیادہ تر مرد ہوتے ہیں کیونکہ خواتین اس کو خریدتے ہوئے شرماتی ہیں۔المراغی کا کہنا ہے کہ اس دوا کو خواتین کی ویاگرا کہنا نامناسب ہیں اور یہ نام ہم نے نہیں بلکہ مقامی میڈیا نے دیا ہے۔ جہاں ویاگرا مردانہ کمزوری کو دور کرنے کے لیے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہوئے اعضو تناسل تک پہنچاتی ہے وہی فلبانسیرن کو اینٹی ڈپریسنٹ اور دماغ میں کیمکلز کو متوازن کر کے جنسی خواہشات بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔سیکس تھراپسٹ ہیبا کتب کا کہنا خواتین کی ویاگرا کہنا ایک گمراہ کن اصطلاح ہے
جنھوں نے اس دوا کا نسخہ اپنے کسی بھی مریض کو لکھ کر دینے سے انکار کیا۔خواتین کے لیے سیکس ایک جذباتی عمل ہے اور یہ سب کچھ ذہن میں شروع ہوتا ہے۔ ایک عورت کا کبھی اپنے شوہر سے صحتمند جنسی تعلق نہیں ہو سکتا اگر وہ اس کی عزت نہیں کرتا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ کوئی علاج اس میں مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔مصری خواتین کو اپنی جنسی ضروریات کے حوالے سے پرسکون انداز میں بات کرنے میں ابھی وقت لمبا وقت درکار ہے۔ لیلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ بہت سی ایسی خواتین کو جانتیں ہیں جنہوں نے جنسی تعلقات میں کمی کی وجہ سے شادی میں مجموعی تناؤ کے بعد خلع کا دعویٰ دائر کیا ہوا ہے۔فارمیسی منیجر صادق کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی شروعات ہے لیکن فلبانسیرن کی سیل ابتک بہت اچھی اور امید ہے کہ یہ بڑھے گی۔جب مرد اپنی بیوی کی جنسی خواہش میں اس دوا کے استعمال کے باوجود کوئی بہتری نہیں دیکھتا تو وہ اس کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے گا نہ کہ اس دوائی کی غیر مؤثر ہونے یا اپنے ازدواجی تعلقات میں تناؤ کو ذمہ دار ٹھہرائے۔ وہ اس کو چھوڑنے اور دھوکا دینے کا جواز بھی بنا سکتا ہے۔(ش س م)e

Like Our Facebook Page

Latest News